بھٹکل 24/ ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل ٹاون میونسپالٹی میں صفائی کرمچاری کی ذمہ داری انجام دینے والے ملازمین کے لئے رہائشی اسکیم کے تحت مجوزہ مکانات کی تعمیر سست رفتاری کا شکار ہوگئی ہے اور ملازمین کے لئے گھروں کا بندوبست ابھی تک ادھورا خواب بنا ہوا ہے۔
اس وقت بھٹکل بلدیہ میں صفائی کرمچاری زمرے میں جملہ 34 افراد ملازم ہیں ۔ ان لوگوں کو مکانات فراہم کرنے کے پہلے مرحلہ میں 27 ملازمین کو مکانات فراہم کرنے کی تجویز منظور ہوئی جس میں سے ہر ایک مکان کی لاگت 7.50 لاکھ روپے طے کی گئی تھی ۔ جملہ 2.02 کروڑ روپے کی لاگت سے چار رہائشی کامپلیکس بنانا طے ہوا تھا ۔ تین سال قبل اس کا ٹینڈر بھی طلب کیا گیا تھا ۔ لیکن مکانات کی تعمیر کے لئے زمین کی قلت سامنے آرہی ہے جس سے یہ منصوبہ آدھا ادھورا پڑا ہوا ہے ۔
اس وقت صفائی کرمچاری جس کوٹیشور کالونی میں بستے ہیں وہاں پر ہی پہاڑی کا حصہ کاٹ کر رہائشی مکانات تعمیر شروع کی گئی تو صفائی کرمچاریوں نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ پہاڑ چکنی مٹی والا ہے اس لئے یہاں زمین کھسکنے کے واقعات پیش آتے ہیں اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ اس لئے اس اسکیم کے لئے کسی دوسرے مقام پر زمین حاصل کی جائے ۔ مگر صفائی کرمچاریوں کو الزام ہے کہ بلدیہ نے ان کے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی مقام پر مکانات کی تعمیر شروع کی ہے ۔ لیکن ان مکانات کی تعمیر دو سال گزرنے کے بعد بھی پوری نہیں ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ مزید 13 مکانات کی تعمیر کا کام شروع ہونا باقی ہے اور صفائی کرمچاریوں کا احساس ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے مکمل ہونے کے امکانات موجود نہیں ہیں ۔
صفائی کرمچاریوں کے سامنے یہ بھی ہے کہ نیشنل ہائی وے کے قریب جہاں اس وقت ان کے مکانات موجود ہیں اس علاقہ کا ایک بہت بڑا حصہ ہائی وے توسیعی منصوبے کے لئے کٹنے والا ہے ۔ اس سے پہلے وہاں بسنے والوں کو اپنے گھر کے خالی کرکے دوسری جگہ منتقل ہونا ضروری ہے ۔ ریلوے اسٹیشن روڈ پر آشریہ کالونی میں 7 مکانات تعمیر کرنے کی بات بھی ہوئی تھی مگر وہاں بھی جگہ کم پڑنے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہوسکا ہے ۔
صفائی کرمچاریوں کا کہنا ہے کہ ساگر روڈ پر پرانے پولیس چیک پوسٹ کے پاس بھٹکل بلدیہ کی خالی جگہ موجود ہے اس لئے وہاں پر ہی ان لوگوں کے لئے مکانات تعمیر کیے جائیں اور ان کی رہائش کا مسئلہ حل کیا جائے۔
